ریاض میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا اہم دفاعی اجلاس، فوجی رابطے اور سکیورٹی تعاون بڑھانے پر مشاورت
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی رابطے مزید مضبوط
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاملات پر اہم مشاورت ہوئی ہے۔ ریاض میں ہونے والی اس ملاقات میں تینوں ممالک کے اعلیٰ عسکری حکام نے خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور باہمی دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات میں پاکستان کی نمائندگی چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی، جبکہ سعودی اور ترک فوجی قیادت بھی اجلاس میں موجود تھی۔
اجلاس کے دوران تینوں ممالک کے درمیان فوجی رابطوں، معلومات کے تبادلے اور دفاعی تعاون کو مزید منظم کرنے کے امور زیرِ بحث آئے۔ حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں پیدا ہونے والے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی رابطہ برقرار رکھا جائے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کو یمن کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات کا سامنا ہے۔ اجلاس میں سعودی عرب کے شہری علاقوں اور اہم تنصیبات کو درپیش خطرات پر بھی بات چیت کی گئی۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں بھی تازہ ملاقات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے میں تینوں ممالک نے ایک دوسرے کی سلامتی کے لیے تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
تاہم موجودہ ملاقات کے بعد پاکستان کی جانب سے سعودی عرب میں کسی نئی فوجی تعیناتی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ فی الحال توجہ دفاعی رابطہ کاری، انٹیلی جنس تعاون اور مشترکہ سکیورٹی معاملات پر ہے۔
