“سعودی عرب کو خطرہ ہوا تو پاکستان دفاع کے لیے مدد کرے گا، خواجہ آصف کا اہم بیان”

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو ایک بار پھر واضح کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو کسی بھی مسلح گروہ، دوسرے ملک یا حوثیوں کی جانب سے خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان اس کے دفاع میں مدد فراہم کرے گا۔

خواجہ آصف نے یہ مؤقف ایک تازہ انٹرویو میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود دفاعی انتظام کے تحت اسلام آباد اپنی دستیاب دفاعی صلاحیتیں ضرورت کے وقت ریاض کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

وزیرِ دفاع نے خاص طور پر یمن کے حوثیوں کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے نزدیک سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات ایک سنجیدہ معاملہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کے خلاف کسی جارحیت کی صورت میں پاکستان تعاون سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

یہ بیان پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی اتحاد کے تناظر میں بھی اہم ہے۔ اگست 2026 میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے مشترکہ دفاع اور سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا تھا۔ معاہدے میں ایک رکن کے خلاف مسلح حملے کو اجتماعی سلامتی سے جوڑنے کی شق شامل ہے۔

حالیہ دنوں میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے فوجی سربراہان نے ریاض میں ملاقات بھی کی تھی، جس میں انٹیلی جنس شیئرنگ، فوجی رابطہ کاری اور دفاعی تعاون کے عملی طریقوں پر بات ہوئی۔

تاہم خواجہ آصف کے تازہ بیان میں کسی نئی پاکستانی فوجی تعیناتی یا سعودی عرب میں کسی مخصوص آپریشن میں شرکت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ موجودہ طور پر بیان پاکستان کے دفاعی عزم اور معاہدے کے تحت ممکنہ تعاون سے متعلق ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *