“پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے مذاکرات شروع، 1.2 ارب ڈالر کی ممکنہ اگلی قسط کا معاملہ زیرِ غور”
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اہم مذاکرات شروع، تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی اگلی رقم پر نظر
پاکستان کی معیشت سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان نئے مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ دونوں فریق اس وقت پاکستان کے موجودہ 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے چوتھے جائزے پر بات کر رہے ہیں۔
اسی مذاکرات میں آئی ایم ایف کے Resilience and Sustainability Facility کے تیسرے جائزے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کا وفد، جس کی قیادت آئیوا پیٹرووا کر رہی ہیں، پاکستان میں تقریباً دو ہفتے قیام کے دوران مختلف معاشی شعبوں کا جائزہ لے گا۔

مذاکرات کے دوران حکومتی اقدامات، ٹیکس وصولیوں، مالیاتی نظم و ضبط، توانائی کے شعبے اور مختلف معاشی اصلاحات پر پیش رفت دیکھی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مختلف قوانین میں تقریباً 174 ترامیم پر کام جاری ہے۔
اگر دونوں جائزے کامیابی سے مکمل ہوگئے اور بعد میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے منظوری دے دی، تو پاکستان کو تقریباً 1 ارب ڈالر EFF کے تحت اور تقریباً 200 ملین ڈالر RSF کے تحت مل سکتے ہیں۔ یوں مجموعی رقم تقریباً 1.2 ارب ڈالر بنتی ہے۔
حتمی رقم اور اس کے اجرا کا انحصار مذاکرات کی تکمیل، پروگرام کی شرائط پر پیش رفت اور آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری پر ہوگا۔
