حکومت کا 2 لاکھ ٹن اضافی چینی برآمد کرنے کا فیصلہ، قیمتوں کی نگرانی کے لیے کمیٹی قائم
پاکستان میں اضافی چینی کے ذخائر سے متعلق حکومت نے اہم فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ کی خصوصی کمیٹی نے 2 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کے طریقۂ کار کو حتمی شکل دے دی ہے اور متعلقہ اداروں کو باقی کارروائی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ اجلاس نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی صدارت میں ہوا، جس میں چینی کی برآمد سے متعلق انتظامی اور نگرانی کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔

حکومت کے مطابق اس فیصلے کا مقصد اضافی ذخیرے کو استعمال کرنا، شوگر سیکٹر اور گنے کے کاشتکاروں کو سہولت دینا اور برآمدات کے ذریعے زرمبادلہ حاصل کرنا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک کے اندر چینی کی قیمتوں پر مسلسل نظر رکھی جائے گی تاکہ مقامی صارفین متاثر نہ ہوں۔
اس مقصد کے لیے ایک مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مارکیٹ میں چینی کے نرخ اور دستیابی کا باقاعدگی سے جائزہ لے گی۔ حکومت نے متعلقہ وزارتوں کو برآمدی عمل سے جڑی باقی رسمی کارروائی فوری مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

اس سے پہلے 15 ستمبر کو شوگر ایڈوائزری بورڈ نے ملکی ضرورت، دستیاب ذخائر اور مجموعی سپلائی کا جائزہ لینے کے بعد 2 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت کی سفارش کی تھی۔
دوسری جانب شوگر ملز ایسوسی ایشن نے اس کوٹے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے زیادہ مقدار میں چینی برآمد کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
