“پاکستان اور آئی ایم ایف میں مذاکرات جاری، ٹیکس وصولیوں اور ہدفی سبسڈی پر اہم پیش رفت”

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان معاشی پروگرام کے جائزوں پر بات چیت جاری ہے۔ موجودہ مذاکرات میں 7 ارب ڈالر کے Extended Fund Facility کے چوتھے جائزے کے ساتھ Resilience and Sustainability Facility کے تیسرے جائزے کو بھی زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔

تازہ پیش رفت کے مطابق آئی ایم ایف مشن اور ایف بی آر حکام کے درمیان ٹیکس وصولیوں سے متعلق بات چیت مکمل ہو چکی ہے۔ پاکستانی حکام نے بتایا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکس وصولی مقررہ ہدف سے بہتر رہی، جسے مذاکرات میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر پیش کیا گیا۔

مذاکرات میں بجلی اور ایندھن کی سبسڈی بھی اہم معاملہ ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے عمومی سبسڈی کے بجائے ضرورت مند افراد کو ہدف بنا کر ریلیف دینے کے طریقۂ کار پر زور دیا جا رہا ہے، جس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مدد پہنچانے کی تجویز بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ حکومتی مالیات، سرکاری اداروں کی اصلاحات، ٹیکس نظام اور دیگر معاشی اہداف پر بھی دونوں فریقوں کے درمیان جائزہ جاری ہے۔ آئی ایم ایف نے بعض ساختی اصلاحات اور مالیاتی اعداد و شمار سے متعلق معاملات پر مزید وضاحت اور پیش رفت طلب کی ہے۔

مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں پاکستان کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مجموعی مالی معاونت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جس میں تقریباً ایک ارب ڈالر EFF اور 200 ملین ڈالر RSF کے تحت شامل ہیں۔ تاہم اس رقم کا اجرا جائزوں کی تکمیل اور آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *