“عالمی رپورٹ میں لاہور کی اوزون آلودگی انتہائی خراب قرار، فضائی معیار پر نئی تشویش”

لاہور کی فضائی آلودگی ایک بار پھر عالمی سطح پر توجہ کا باعث بنی ہے۔ یورپی یونین کی Copernicus Atmosphere Monitoring Service (CAMS) کی تازہ تجزیاتی رپورٹ میں لاہور کو ان بڑے شہروں میں شامل کیا گیا ہے جہاں زمینی سطح کی اوزون آلودگی انتہائی خراب ریکارڈ ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق 2026 کے دوران شدید گرمی، جنگلات میں لگنے والی آگ اور انسانی سرگرمیوں سے خارج ہونے والی گیسوں نے دنیا کے کئی علاقوں میں اوزون کی آلودگی بڑھائی۔ یکم جنوری سے 15 ستمبر تک عالمی آبادی کے تقریباً 34 فیصد حصے کو انتہائی خراب اوزون کی سطح کا سامنا رہا، جبکہ ایشیا میں یہ شرح تقریباً 53 فیصد بتائی گئی۔

ماہرین کے مطابق زمینی سطح کی اوزون براہِ راست خارج ہونے والی آلودگی نہیں بلکہ مختلف کیمیائی عمل کے نتیجے میں بنتی ہے۔ دھوپ اور زیادہ درجۂ حرارت جب گاڑیوں، صنعتی سرگرمیوں اور دیگر ذرائع سے نکلنے والی گیسوں کے ساتھ ردِعمل کرتے ہیں تو زمین کے قریب اوزون کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔

CAMS نے لاہور کے ساتھ نئی دہلی، ڈھاکا اور چین کے شہر چونگ چنگ کو بھی ان شہری علاقوں میں شمار کیا ہے جہاں اوزون کی آلودگی کی صورتحال انتہائی خراب رہی۔

یہ رپورٹ لاہور کے لیے اس لیے اہم ہے کہ شہر پہلے ہی سموگ اور مختلف اقسام کی فضائی آلودگی کے مسئلے کا سامنا کرتا ہے۔ تاہم اس رپورٹ میں خاص طور پر زمینی سطح کی اوزون کا جائزہ لیا گیا ہے، اس لیے اسے روزانہ کے AQI اسکور کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔

CAMS کے مطابق فضائی آلودگی سرحدوں تک محدود نہیں رہتی اور ہوا کے ذریعے ایک علاقے سے دوسرے خطے تک منتقل ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے علاقائی اور عالمی سطح پر اقدامات کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *