PTI کا 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پاکستان تحریکِ انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کرنے کے اعلان پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کا بنیادی مقصد بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی، ان سے ملاقات اور دیگر سیاسی مطالبات کے لیے آواز اٹھانا ہے۔

22 ستمبر تک صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے حکومت کی جانب سے رکاوٹوں اور گرفتاریوں کے باوجود 27 ستمبر کا احتجاج مؤخر نہیں کیا۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی کہا ہے کہ پارٹی 27 ستمبر کو احتجاج کا حق استعمال کرے گی۔

ان کے مطابق احتجاج کے حوالے سے مزید تفصیلی پلان 25 ستمبر کو سامنے لایا جائے گا۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کو احتجاج سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اسلام آباد میں کسی بھی قسم کی بدامنی یا خلل برداشت نہیں کرے گی اور مارچ کی صورت میں حکومتی ردعمل دیا جائے گا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ احتجاج آئین اور قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے اور اسلام آباد میں سڑکوں یا اہم مقامات کو بند کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ماضی کے بعض احتجاجی واقعات میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچا، اس لیے اس مرتبہ سکیورٹی کے حوالے سے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ بھی پی ٹی آئی کے مجوزہ مارچ کے معاملے پر احکامات جاری کر چکی ہے۔ عدالت کے مطابق کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو عوامی سڑکوں، شاہراہوں یا سرکاری عمارتوں پر قبضہ یا انہیں غیر معینہ مدت کے لیے بند رکھنے کا قانونی حق حاصل نہیں۔ عدالت نے صوبائی حکومتوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ احتجاج کے لیے سرکاری مشینری استعمال نہ کی جائے۔

ادھر اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے اور سڑکوں پر کنٹینرز رکھنے کی تیاری کی گئی ہے۔ حکومت کا مقصد دارالحکومت میں ٹریفک اور معمولاتِ زندگی کو متاثر ہونے سے روکنا بتایا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *