PTI نے 27 ستمبر کا پروگرام برقرار رکھا ہے

PTI کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان واپس نہیں لیا گیا۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق تفصیلی پلان 25 ستمبر کو سامنے لایا جائے گا

مارچ کا بنیادی مطالبہ کیا ہے؟

PTI اس احتجاج کو بنیادی طور پر عمران خان کی رہائی اور پارٹی کے دیگر سیاسی مطالبات کے ساتھ جوڑ رہی ہے۔ بیرسٹرگوہر کا کہنا ہے کہ پارٹی سیاسی معاملات کو آئینی اور قانونی طریقے سے حل کرنا چاہتی ہے اور احتجاج کو پُرامن رکھنےکی بات کر رہی ہے۔

مارچ کا مکمل روٹ ابھی فائنل نہیں

تازہ رپورٹس کے مطابق PTI نے ابھی تک قافلوں کے حتمی روٹ، روانگی کے اوقات اور اسلام آباد پہنچنے کے مکمل انتظامات کو حتمی شکل نہیں دی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ تفصیلات 25 ستمبر تک سامنے آنے کی توقع ہے۔ ایک زیرِ غور منصوبے میں راستے میں رکاوٹ کی صورت میں صوابی میں قیام بھی شامل ہے۔

خیبر پختونخوا سے بڑی شرکت متوقع

رپورٹس کے مطابق مارچ میں PTI کی بڑی موبلائزیشن خیبر پختونخوا سے متوقع ہے۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے کارکنوں کو بھی اپنی اپنی جگہ احتجاج کی ہدایات دی گئی ہیں، جبکہ KP سے ملحقہ پنجاب کے علاقوں سے کارکنوں کی اسلام آباد کی طرف نقل و حرکت پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

حکومت نے سکیورٹی سخت کر دی

 

اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکیورٹی انتظامات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں 22 ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ اٹک میں تقریباً 30 ہزار اضافی اہلکار طلب کیے گئے ہیں۔ راولپنڈی پولیس نے بھی مزید نفری طلب کی ہے۔

اہم راستوں پر کنٹینرز

حکام نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف داخلی و خارجی راستوں پر کنٹینرز رکھنا شروع کر دیے ہیں۔ رپورٹ میں فیض آباد، چونگی نمبر 26، روات، چکری، اڈیالہ روڈ، پیرودھائی، بھارہ کہو اور 17 میل سمیت مختلف مقامات کا ذکر ہے۔

حکومت کا مؤقف

وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ احتجاج قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے اور تشدد، ہتھیاروں یا عوامی راستوں کی بندش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے PTI سے 27 ستمبر کا احتجاج دوبارہ غور کرنے کو کہا ہے۔

عمران خان کی تین بہنوں کی حراست

مارچ سے پہلے عمران خان کی بہن علیمہ خان کو 30 دن کے لیے حراست میں لیا گیا، جبکہ ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی 30 روزہ حراست میں لیے جانے کی اطلاع ہے۔ ان حراستوں کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ حکام کے احکامات میں امنِ عامہ اور ماضی کے احتجاج سے متعلق الزامات کا حوالہ دیا گیا ہے، جبکہ درخواست گزاروں نے حراست کے قانونی جواز کو چیلنج کیا ہے۔

حکومت اور PTI کے درمیان رابطے بھی ہوئے

تازہ رپورٹنگ کے مطابق دونوں جانب پسِ پردہ رابطے ہوئے، لیکن 27 ستمبر کا مارچ واپس لینے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ رپورٹس میں بنیادی مسئلہ اعتماد کی کمی کو بتایا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی معاملہ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے PTI رہنماؤں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور ان کے گھروں پر چھاپوں سے متعلق درخواست پر اسلام آباد پولیس کے SSP Operations کو 24 ستمبر کو طلب کیا ہے۔

مختصر طور پر:
22 ستمبر تک PTI کا 27 ستمبر مارچ برقرار ہے، لیکن اس کا مکمل روٹ اور عملی پلان ابھی سامنے نہیں آیا۔ دوسری طرف حکومت نے سکیورٹی سخت کر دی ہے، مختلف راستوں پر رکاوٹیں لگائی جا رہی ہیں اور حکومتی وزرا قانون نافذ کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ اسی دوران PTI رہنماؤں اور عمران خان کی بہنوں کی حراست نے سیاسی کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *