“پاکستان اور آئی ایم ایف میں مذاکرات جاری، معاشی اصلاحات اور تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی ممکنہ مالی معاونت پر بات چیت”
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان معاشی پروگرام کے اگلے مرحلے پر مذاکرات جاری ہیں۔ موجودہ بات چیت میں 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام کے چوتھے جائزے کے ساتھ 1.4 ارب ڈالر کی Resilience and Sustainability Facility کے تیسرے جائزے کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف مشن کی قیادت آئیوا پیٹرووا کر رہی ہیں۔
مذاکرات کے دوران پاکستان کی معاشی صورتحال، ٹیکس وصولیوں، توانائی کے شعبے، سرکاری اداروں کی اصلاحات اور مالیاتی معاملات پر پیش رفت دیکھی جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف نے بعض سرکاری اداروں سے متعلق قوانین میں تاخیر پر بھی تشویش ظاہر کی ہے اور ضروری قانونی تبدیلیاں مکمل کرنے پر زور دیا ہے۔
ایک اور اہم معاملہ عوام کو دی جانے والی سبسڈی کا ہے۔ آئی ایم ایف مشن نے عمومی سبسڈی کے بجائے مستحق افراد تک محدود اور ہدفی امداد پہنچانے کی تجویز دی ہے، خصوصاً ایندھن کی قیمتوں سے پیدا ہونے والے دباؤ کے تناظر میں۔

پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں پروگرام کے مختلف اہداف اور اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سرکاری خریداری کے نئے قواعد بھی مذاکرات کے دوران نافذ کیے گئے ہیں، جبکہ بعض دیگر ساختی اصلاحات ابھی زیرِ بحث ہیں۔
بات چیت کامیابی سے مکمل ہونے اور بعد ازاں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کی صورت میں پاکستان کو دونوں پروگراموں کے تحت مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر ملنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جس میں تقریباً ایک ارب ڈالر EFF اور 200 ملین ڈالر RSF کے تحت شامل ہیں۔
فی الحال مذاکرات حتمی مرحلے تک نہیں پہنچے، اس لیے اگلی مالی قسط کے اجرا کو ابھی حتمی منظوری حاصل نہیں ہوئی۔
