“سعودی عرب کو خطرہ ہوا تو پاکستان دفاعی صلاحیتیں استعمال کرے گا، خواجہ آصف کا اہم بیان”
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو درپیش کسی حملے یا جارحیت کی صورت میں پاکستان اپنی دستیاب دفاعی صلاحیتوں کے ذریعے اس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
خواجہ آصف نے یہ مؤقف پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں بیان کیا۔ تینوں ممالک نے اگست 2026 میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایک رکن پر حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کرنے کی بات کی گئی ہے۔
وزیرِ دفاع کے مطابق اس معاہدے کے تحت پاکستان کی جو بھی دفاعی صلاحیتیں دستیاب ہوں گی، انہیں ضرورت پڑنے پر سعودی عرب کے دفاع کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ پاکستانی فورسز نے حالیہ حوثی حملوں کے جواب میں یمن کے خلاف ہونے والی کسی فضائی کارروائی میں پہلے ہی حصہ لیا ہے یا نہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں کے تناظر میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ چند روز قبل پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے فوجی سربراہان نے ریاض میں ملاقات بھی کی تھی، جس میں انٹیلی جنس شیئرنگ، فوجی رابطہ کاری اور دفاعی تعاون پر گفتگو ہوئی تھی۔

دوسری جانب خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے اور وسیع تر علاقائی تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں پاکستان کا مؤقف ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی عزم اور دوسری طرف سفارتی کوششوں، دونوں پر مشتمل ہے۔
ابھی تک پاکستان کی جانب سے سعودی عرب میں نئی فوجی تعیناتی یا کسی مخصوص کارروائی میں براہِ راست شرکت کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ موجودہ بیان بنیادی طور پر دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی ممکنہ مدد اور عزم کی وضاحت کرتا ہے۔
