1۔ پاک افغان سرحد پر دوبارہ جھڑپیں
پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے گلستان سیکٹر میں افغان طالبان کے اہلکاروں نے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے بعد پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔ ذرائع کے مطابق کئی افغان طالبان اہلکار ہلاک ہوئے اور سرحد پر وقفے وقفے سے فائرنگ جاری رہی۔

پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیاں
24 ستمبر کو پاکستان نے افغانستان میں 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون کارروائیوں کا اعلان کیا۔ پاکستانی حکومت کے مطابق ان مقامات کو ڈرونز لانچ یا ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
۔ ڈرونز کا معاملہ کشیدگی کی بڑی وجہ بن گیا
پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 23 ستمبر کو افغانستان سے آنے والے 8 ڈرونز کو پاکستانی فضائی حدود میں مار گرایا گیا—چار ٹورخم کے قریب اور چار کوہاٹ کے علاقے میں۔

افغانستان کا مؤقف مختلف ہے
افغان طالبان پاکستانی کارروائیوں اور سرحدی حملوں کے حوالے سے پاکستانی مؤقف کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ افغان حکام نے پاکستانی فضائی حملوں میں شہری نقصانات کی بھی اطلاعات دی ہیں، جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں عسکری اہداف کے خلاف تھیں۔
۔ کشیدگی میں اضافے کی بنیادی وجہ
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف عسکریت پسند کارروائیاں ہو رہی ہیں اور کابل کو ان گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کرنی چاہیے۔ افغان طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔
