پاکستان کی افغانستان میں تازہ کارروائی
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق، پاکستان نے افغانستان میں 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے کیے۔ پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی افغانستان سے آنے والے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی اور ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں ڈرونز کو لانچ یا ذخیرہ کیا جاتا تھا۔
اس سے ایک روز پہلے پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان سے آنے والے 8 ڈرونز کو ٹورخم اور کوہاٹ کے قریب مار گرایا گیا تھا۔

پاکستانی حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی اور حملوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا، جبکہ ساتھ ہی پاکستان نے کہا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا اور مذاکرات و سفارت کاری کے لیے پرعزم ہے۔
دوسری جانب افغان حکام نے پہلے پاکستانی فضائی حملوں کی مذمت کی اور پاکستان پر افغان خودمختاری کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ 21 ستمبر کے حملوں کے بارے میں افغان حکام اور اقوام متحدہ نے تین شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع بھی دی تھی۔
